حسین ابنِ علی
سفر شروع کیا
پیاس اور صحرا نے
مجھے یقین دلایا کہ میں مسافر ہوں
وگرنہ عشق کی وحشت کو راس تھی ہجرت
پھر اس کے بعد عجب ساعتِ سفر اتری
بزرگ پیڑ مرا حوصلہ بڑھانے لگے
درِحسین پہ پہنچا تو در کی چوکھٹ کو
لبوں سے بوسہ دیا اور صدا لگانے لگا
حسین ابنِ علی ہیں ؟ غلام آیا ہے
حسین ابنِ علی ہیں ؟
غلام آیا ہے
کنیز: کون ہے ؟
خاتون میں مدینے سے
کنیز: آپ کی آمد سے باخبر ہیں حضور
اور آپ کیلئے فرمانِ شاہ ہے مجھ کو
کہ آپ ہجرہ ِ عباس کے برابر میں
جو ایک روضہ ِ اویس ہے ، وہاں بیٹھیں
حضورآپ سے ملنے ضرور آئیں گے
درِ حسین سے اٹھنا محال تھا میرا
مگر یہ حکم تھا مجھ ، لہذا اٹھنا پڑا
نظر نہ آتا ہوا ہم سفر ستارہ کوئی
مجھے وہاں سے اٹھاکے یہاں تلک لایا
یہاں پہ کوئی نہیں تھا سوائے سجدے کے
میں خامشی سے لرزتا یہاں پہ بیٹھ گیا
جب ایک چاپ سنی تو لرز کے اٹھتا ہوں
وہی کنیز ، دیا، دودھ اور کھجوروں کو
سنہرے طشت میں رکھے قریب آتی ہے
مجھے بتاتی ہے
“افطار ہو چکا روزہ “
وہ اتنا کہہ کے روانہ ہوئی تو ہجرے میں
سفید اور دھلی روشنی بکھرنے لگی
جب اس سفید دھلی روشنی میں آنکھوں کو
ذرا دکھائی دیا تو نگاہ رونے لگی
امام آئے ،
امام آئے تو آقا کو دیکھتے ہی میں
خوشی سے بڑھ کے قدم بوسی ان کی کرتا ہوں
حضور بٹھاتے ہیں اور فرمایا
سنائو کیسے ہو؟
یہ آپ جانتے ہیںحضور
عجب طرح سے پریشان ہوں فقیری میں
کسی کے عشق میں گھر بار ، شہر کو چھوڑا
عزیز چھوڑے تھے اور ان کا مان بھی توڑا
نہ روزگار تھا کوئی نہ جیب میں پیسہ
بس ایک شخص اور اس کا حصول تھا سب کچھ
حضور آپ تو یہ بات جانتے ہیں حضور
وہ کیسے چھوڑ گیا کیسے دل کو توڑ گیا
پھر اس کے بعد کئی پیر اور فقیر ملے
جو اپنی ذات میں ابدال ، غوث، صوفی تھے
سبھی نے اپنے طریقے سے مجھ کو فیض دیا
مگر حضور کوئی اسم بھی مداوا نہیں
مرے لیے مری دیوار کا بھی سایہ نہیں
حضور آپ ہی فرمائیے کرم مجھ پر
حضور آپ ہی فرمائیے کرم مجھ پر
حضور آپ توا حوال جانتے ہیں حضور
عماد اظہر --فیصل آباد
شعری مجموعہ: موجود
No comments:
Post a Comment