بندہ ناچیز کا نام محمد محمود مغل ہے اور قلمی نام “ م۔م۔مغل “ ہے ، 12 نومبر 1979 بروز پیر اس دنیائے فانی میں آنکھ کھولی۔ میرے کا ننھیال “بنارس“ (مشترکہ ہندوستان) اور ددھیال“بانس بریلی“(مشترکہ ہندوستان) سے ہے۔۔ آباء اجداد منگولیہ سے چلے تھے اور گھوڑے کے سموں سے زمین کو روندتے پھاندتے ہندوستان آ رکےاور صدیوں حکمرانی کے مزے لوٹے ، کئی نے رعایا کو رعیا کیا اور کئی نے راعی۔۔ 12 مئی 1857 میں اپنے انجام سے دوچار ہوئے۔ میرے دادا حیات محمد مغل برطانوی سپاہ کے اسلحہ خانے میں اسلحہ سازی سے وابستہ تھے۔دادی حضور کی ناسازیءطبع کی وجہ کر محکمانہ رخصت لے کر پرفضا مقام (موجودہ سرحدی علاقے ایبٹ آباد میں“پنج گرایاں“ (پانچ گاﺅں) میں ٹھہرے اسی دوران غدر کہیئے یا تقسیم بہرحال پاکستان کا وجود بھی ممکن ہوگیا اسی دوران میری دادی صاحبہ دنیائے فانی کو آخری سلام کہہ کر رخصت ہوئیں۔۔ دادا بھی دل برداشتہ دادی کے فوراً بعد ہی میرے تایا ، والد اور دو چچاﺅں سمیت دو پھپھیاں روتے چھوڑ کر رخصت ہوئے۔۔ قریبا 22 سال کی وہاں سکونت کا صلہ زبان کی تبدیلی کی صورت ملا ، یعنی اردو سے ہندکو اور پشتو۔۔ خیر والدین کا عقدکراچی میں ہوا والد یہاں بسلسلہ روزگار آئے تھے۔۔اور پھر ہم آئے۔۔۔ 6 سال کی عمر میں قرآن ناظرہ کا شرف حاصل ہوا عصری تعلیم جاری رہی 13 برس کی عمر میں قرآن حفظ کے لیئے داخلِ مدرسہ (مبارک مسجد گزری کراچی) ہوئے حفظ کے بعد میٹرک اور پر FSc انجینیرنگ اور پھر بی اے (فائن آرٹس)۔۔ تعلیمی سلسلہ کے ساتھ ہی بارہ برس کی عمر سے ہی روزگار کا بوجھ بھی ساتھ رہا۔۔ شروع شروع میں کتابت۔ پھر مصوری (اشتہاری)۔۔۔۔ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔۔۔اب ایک اشتہاری محکمہ میں بطور ہدایتکار (آرٹ ڈائریکٹر) اور “مصور“ ہوں۔۔۔شاعری کا عارضہ بچپن میں قتیل شفائی صاحب کی رہائش گاہ پر منعقدہ نشستوں سے لاحق ہوا اور اس کا اظہار کوئی 1998 سے ہوا۔۔ پہلا شعر جو مجھے یاد ہے کچھ یوں تھا
اوروں کو سنانے سے کسک اور بڑھے گی
کیا تم بھی مرے غم کی کہانی نہ سنو گے
مشق جاری ہے نہ شاعر ہونے کا زعم ہے نہ ہی کسی سے مقابلہ، تین برس قبل پہلا افسانہ بعنوان “جرس“ لکھا اور تنقیدی نشست میں کامیابی سے ہمکنار ہوکر۔۔ افسانہ باقائدہ لکھنا شروع کردیا، مصوری کی باقائدہ سیکھی نہیں۔۔ مگر میرے ہمدم اور دوست وسیم احمد (شی میگزین کے ہیڈ) سے بنیادی تیکنیک سے شناسائی حاصل کی اور 2001 میں صادقین ایوارڈ میں خطاطی میں پہلا اور مصورانہ آہنگ میں تیسرا کل پاکستان تمغہ حاصل کیا۔۔ کالم نگاری بھی تقریبا تین سال سے جاری ہے کراچی کے روزناموں میں بہت کم مگر کینیڈا کے “کارواں“ میں باقائدگی سے ہفتہ وار کالم کا سلسلہ جاری ہے۔۔ فنِ بت سازی (اسکلپچر) سے تھوڑی بہت شد بد ہے۔۔فارغ وقتوں میں ٹھٹھول کر لیتا ہوں۔ لیاقت علی عاصم، عزم بہزاد، اعجاز رحمانی ، جاذب قریشی، اقبال خاور، سرورجاوید، صادق مدہوش،احمد صغیر صدیقی، ہمسایہ ملک بھارت کے بیکل اتساہی، منور رانا، ڈاکڑنزہت انجم، سمیت سیکڑوں زعمائے ادب کے ساتھ شرفِ مجلس حاصل ہے۔ دوستوں میں اختر عبدالرزاق، توقیر تقی،شبیر نازش اور عزیز مرزا شامل ہیں۔انٹر نیٹ پر تیرہ برس سے کما کھا رہا ہوں۔ بیسیوں ادبی سائٹس اور فورم سے منسلک ہوں کئی فورم پر موڈریٹر ہوں اپنی ادبی تنظیم “ سخن دوستاں“ کا بھی ایک فورم چلا رہا ہوں۔ آپ کی گراں قدر آراءکا انتظار رہے گا۔
نیاز مشرب
کوہساروں کی وادی ایبٹ آباد سے ہجرتی
، شہرِ عروساں “ کلاچی“ کا اسیر
محمد محمود مغل

10 comments:
بہت اعلی، بلاگنگ پر خوش آمدید جناب ۔ انشاللہ آپ کی تحریروں سے اب براہ راست رابطہ رہے گا۔
آپ نے پہلے مراسلہ نگار ہونے کا شرف حاصل کیا ہے مبارکباد قبول کیجیے
والسلام
السلام علیکم
لوجی ہم دوسرے بن جاتے ہیں ں مغل بھائی کمال ہے ٓپ اتنا لکھ کیسے لیتے ہیں ۔ اردو محفل شاعری کالم اور بہت کچھ ۔
مجھے امید ہے کہ آپ یہاں بھی خوبصرت لکھیں گے ۔
میرے پاس آپ کا پیڈ صیحیح کام نہیں کررہا ۔اس کا حل کیا ہے ۔
ابن عادل۔
جناب اگر ٓپ اجازت مرحمت فرماءں تو دوسرے تبصرہ نگار ہم بن جاءں
ویسے ارسال از کے بعد ٓپ نبیل کی جگہ اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں
خوب لکھا ہے مغل۔۔ بلاگ پر اردو سپورٹ نہیں ہے؟
آہ بھائیجان۔۔ مجھے تو پیغام بھی چائینیز میں دیا جارہا ہے، شاید لوکیشن کی وجہ سے ہے، برائے مہربانی اس بلاگ کو اردوسکھاو یار
لو بھئی محمود۔ ہم بھی یہاں پہنچ گئے۔ اگرچہ محفل میں لنک غلط دیا تھا (بلابسپاٹ تھا، بلاگسپاٹ کی جگہ) بہرھال۔ مبارک ہو۔ تمہارے بارے میں تفصیل جان کر بھی اچھا لگا
بہ بہت شکریہ بابا جانی
یک بیک مایوسیاں حیرت بہ داماں ہوگئیں
آپ کی آمد سے اب راتیں درخشاں ہوگئیں
کرم نوازی کیلیے ممنون ہں۔
والسلام
مغل صاحب ایک بہت خوبصورت بلاگ بنانے اور بہت خوبصورت طریقے سے چلانے پر مبارکباد قبول فرمایئے۔
بہت بہت شکریہ ماجد چوہدری صاحب کرم نوازی کیلیے ممنون ہوں ۔
Post a Comment